اسلام آباد کوبڑی تباہی سے بچا لیا گیا، خاتون خودکش حملہ آور گرفتار

Calender Icon پیر 11 مئی 2026

سکیورٹی اداروں نے وفاقی دارالحکومت کو ایک بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے مبینہ خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا، جبکہ تفتیش کے دوران شدت پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوان لڑکیوں کی ذہن سازی اور دباؤ کے ذریعے استعمال کیے جانے کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تربت سے تعلق رکھنے والی خاتون خیر النساء نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ کالعدم تنظیم Balochistan Liberation Army کے افراد نے دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے ذریعے اسے خودکش حملے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

خیر النساء کے مطابق اس کے کزن نے والد کو قتل کی دھمکیاں دے کر اسے تنظیم کیلئے کام کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے بتایا کہ ابتدا میں وہ صرف موبائل کارڈ اور کھانے پینے کا سامان پہنچاتی رہی، تاہم بعد میں اسے اصل مقصد کا علم ہوا۔

خاتون نے مزید انکشاف کیا کہ اسے دو مرتبہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر پہاڑی علاقوں میں لے جایا گیا جہاں مسلح افراد نے دیگر خواتین خودکش حملہ آوروں کی مثالیں دے کر اس کی ذہن سازی کی۔

خیر النساء کے مطابق وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے والد ڈرائیور ہیں۔ خاندان کو نقصان پہنچنے کے خوف سے وہ خاموش رہی۔ اس نے بتایا کہ حب چوکی میں علاج کے دوران بھی اسے خودکش حملے سے متعلق ہدایات دی جاتی رہیں۔

اس کا کہنا تھا کہ کزن کی گرفتاری کے بعد خوف کے باعث اس نے اپنا موبائل فون توڑ دیا۔ خاتون نے پولیس کے رویے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حراست میں لینے کے بعد اسے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور عزت و احترام سے پیش آیا گیا۔

مزیدپڑھیں:ہمارے ساتھ بیٹھی خاتون اسلام آباد میں خودکش حملے کے مشن پر تھیں: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

خیر النساء نے کہا کہ وہ خودکش حملہ نہیں کرنا چاہتی تھی، مگر اسے مسلسل ڈرایا اور بلیک میل کیا جاتا رہا۔ اس نے دیگر نوجوان لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تنظیموں کے بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ یہ راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

خاتون نے بتایا کہ اس کا خواب ڈاکٹر یا استاد بننے کا ہے اور وہ صرف تعلیم حاصل کر کے ایک بہتر زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ ایک بڑے سانحے سے بچ گئی، کیونکہ اسے زبردستی اس راستے پر دھکیلا جا رہا تھا۔