افغان طالبان رجیم(Taliban regime) نےسیاسی ومعاشی آزادی چھینےکےبعداب افغان عوام کی جائیداد ہتھیانےکوبھی قانونی شکل دیدی ،طالبان رجیم نےرہائشی زمینیں سرکاری قرار دیکرضبط کرنےاورشہریوں کوہی دوبارہ فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔
افغان جریدہ افغانستان انٹرنیشنل کےمطابق طالبان رجیم نے سرکاری قراردی گئی رہائشی زمینوں اور جائیدادوں کی ضبطی اور دوبارہ فروخت کا نیا قانون نافذ کردیا ،طالبان رجیم سابقہ مالکانہ حقوق کوکالعدم قرار دیکر زمین دوبارہ شہریوں کوفروخت کرےگی، قانون طالبان کوپہلےسےقائم رہائشی بستیوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کو”سرکاری زمین” قرار دیکر قبضے میں لینے کااختیاردیتاہے، طالبان رجیم نے سرکاری جائیداد کے نام پر مختلف علاقوں میں ہزاروں ایکڑ نجی زمین ضبط کرکےاپنےنام رجسٹر کرلی ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کا اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دے کر پاکستان کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈا
ماہرین کے مطابق اس قانون کااصل مقصدعام افغان شہریوں کی زمینیں چھین کراپنے وفادارجنگجوؤں اورطالبان کمانڈروں کونوازنا ہے افغان عوام پہلےہی غربت،بیروزگاری سےپس رہےہیں،ایسےمیں یہ قانون نافذکرناغریب عوام کی کمرتوڑنےکے مترادف ہے












جمعہ 15 مئی 2026 