ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے اپنی ٹیکس گوشواروں سے متعلق مبینہ غیر قانونی افشا کے کیس میں امریکی حکومت کے ساتھ تصفیہ کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ امریکی محکمہ خزانہ اور انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ 10 ارب ڈالر کا ہرجانے کا مقدمہ تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سرکاری اداروں کی مبینہ غفلت کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان کی حساس مالی معلومات لیک ہوئیں۔ مقدمے میں ٹرمپ کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور ٹرمپ آرگنائزیشن بھی شامل تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق فریقین نے باہمی رضامندی سے کیس کو نمٹانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم تصفیے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے، جس کی مالیت 1.7 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر متاثرہ افراد کو معاوضے کی صورت میں دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں؛ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کی سخت دھمکی
ٹرمپ کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ حساس ٹیکس معلومات ایک کنٹریکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث لیک ہوئیں، جس کے بعد یہ ڈیٹا میڈیا میں شائع ہوا۔ ان کے مطابق اس واقعے نے سرکاری اداروں میں معلومات کے تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ معاملہ برسوں سے امریکی سیاست میں بحث کا موضوع رہا ہے۔ 2016 کے بعد ٹرمپ پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے اپنے مکمل ٹیکس ریکارڈز عوامی سطح پر جاری نہیں کیے، جس پر شدید سیاسی اور عوامی تنقید بھی سامنے آتی رہی۔
حالیہ تصفیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیاست میں ٹرمپ ایک بار پھر فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف قانونی و سیاسی معاملات میں زیر بحث ہیں۔












پیر 18 مئی 2026 