MV Hondius میں ہانٹا وائرس (Hanta virus) کے مشتبہ پھیلاؤ کے بعد جہاز کو نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ڈس انفیکشن کے لیے روک دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ جہاز 25 عملے کے ارکان اور 2 طبی عملے کو لے کر روٹرڈیم کی بندرگاہ پہنچا تھا۔ تمام مسافروں کو پہلے ہی مختلف مقامات پر اتار لیا گیا تھا، جس کے بعد جہاز کو مکمل طور پر خالی کر کے قرنطینہ اور صفائی کے عمل کے لیے تیار کیا گیا۔
جہاز کے آپریٹر Oceanwide Expeditions کے مطابق اس وقت جہاز میں موجود کسی بھی فرد میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
مزید پڑھیں؛آئی ایم ایف کا بی آئی ایس پی وظیفے میں اضافہ کا مطالبہ
رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں تین افراد کی موت بھی ہوئی ہے، جن میں ایک ڈچ جوڑا شامل ہے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جنوبی امریکہ کے دورے کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جہاز نے کینری جزائر سے روانگی کے بعد گزشتہ چند دن سمندر میں گزارے، جس کے دوران بقیہ مسافروں کو نکال کر انہیں مختلف ممالک میں قرنطینہ کے لیے روانہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر 20 سے زائد ممالک کے مسافروں کو مختلف پروازوں کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔
اب تک کم از کم 11 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 9 کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ کچھ افراد قرنطینہ میں زیرِ نگرانی ہیں۔
مزید پڑھیں؛پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں مندی، سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان
عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال کو مجموعی طور پر “کم خطرہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں، تاہم کنٹرول اقدامات کے بعد وائرس کے پھیلاؤ کا امکان کم ہو گیا ہے۔
نیدرلینڈز کی وزارت صحت کے مطابق قرنطینہ میں موجود عملے اور مسافروں کی نگرانی جاری ہے، جبکہ جہاز کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کرنے کے بعد ہی دوبارہ استعمال کی اجازت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق حالیہ تجزیوں میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وائرس اپنی بنیادی ساخت میں تبدیل نہیں ہوا اور اس کی شدت یا پھیلاؤ میں اضافے کے شواہد نہیں ملے۔












پیر 18 مئی 2026 