اسلام آباد، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف(raja pervaiz ashrif) کی گفتگواداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ممبران اور اداروں کے لوگوں نے کھل کر اس معاملے پر بات کی ۔
اگر کسی جگہ کوئی غلطی ہو تو کھل کر سامنے آنا چاہیے۔ جب آپ پر کوئی تہمت لگتی ہے تو پھر انسان پریشان ہو جاتا ہے میں اپنے مخالفین کا شکر گزار ہوں۔
انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوئی پولیس آفیسر اس ملزمہ کو پریشان کر رہا ہے۔
ملزمہ کو صرف اس لیے پریشان کیا جا رہا ہے کہ راجہ پرویز اشرف کا نام لو میں کمیٹی میں صرف اس وجہ سے آیا ہوں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں ۔
مزید پڑھیں:چترال، رات گئے تیز بارش سے تباہی، سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں
ایڈیشنل پولیس چیف سندھ نے آکر کلیئر کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وکیل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے کلائنٹ کو مزید ریمانڈ نہ دیا جائے ۔
ایک سابق وزیراعظم اور ہیں جن کا نام اس معاملے میں آرہا ہے جو بھی اس معاملے میں نہیں ہے اس کا کسی صورت نام نہیں آنا چاہیے۔












بدھ 20 مئی 2026 