امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(donald trump) کے بیجنگ کے دورے کے ختم ہونے کے کئی دن بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
ایک چینی بلاگر جینیفر زینگ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکومت نے امریکی وفد اور اہم شخصیات کی نگرانی کے لیے خفیہ فوجی اہلکار ویٹریس کے روپ میں تعینات کی تھیں۔
چینی بلاگر کے مطابق سرکاری عشائیے میں ایلون مسک کے پیچھے کھڑی ایک خاتون دراصل چینی فوج کی اعلیٰ افسر ’میجر چینگ چینگ‘ تھیں۔
جینیفر زینگ کا یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر جنگ کی آگ کی طرح پھیل گیا ہے۔ اُنہوں نے سوشل میڈیا پر چند تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی خواتین بعد میں فوجی وردی میں بھی دیکھی گئیں۔
زینگ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ خاتون چینی فوجی تقریبات کے آپریشنل دستور تیار کرنے والی اہم افسر ہیں۔ ٹرمپ کیساتھ چین سے روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک پوسٹ میں غیر مصدقہ دعویٰ کہ خاتون کے سرخ لباس کے نیچے ممکنہ طور پر ہتھیار بھی موجود تھا۔ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ چینی حکومت نے بھی اس معاملے پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
مزید پرھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ایران روانہ، سیکیورٹی ذرائع
واضح رہے کہ ماضی میں بھی چین پر مغربی ممالک کی جانب سے خفیہ نگرانی اور جاسوسی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔












جمعہ 22 مئی 2026 