ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی (Ismail Baqai)نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کی صورتحال پیچیدہ ہے، جہاں معاہدہ ایک طرف قریب محسوس ہوتا ہے تو دوسری جانب اس میں واضح فاصلے بھی موجود ہیں۔
تہران میں جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے مذاکراتی مؤقف میں بار بار تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جس سے پیش رفت کا عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل ایک طویل اور مرحلہ وار عمل ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سابقہ رویہ بھی مذاکرات میں مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں؛ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی امید، امریکا پرامید: مارکو روبیو
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ فوری طور پر کسی حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی اور یہ عمل وقت طلب ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی توجہ اس وقت ایک ممکنہ مفاہمتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہے، جو مبینہ طور پر 14 نکات پر مشتمل ہے۔
ان کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک پر تفصیلی بات چیت آئندہ 30 سے 60 دن تک جاری رہ سکتی ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔












ہفتہ 23 مئی 2026 