تائیوان (Taiwan) کے سیکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے تائیوان کے قریبی سمندری علاقوں میں 100 سے زائد بحری جہاز اور کوسٹ گارڈ یونٹس تعینات کر دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
تائیوان کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ جوزف وو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ پیش رفت حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
جوزف وو کے مطابق یہ صورتحال خطے کے اسٹیٹس کو کو متاثر کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے چین کو اس صورتحال کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا۔
مزید پڑھیں؛امریکا ایران ثالثی مثبت نتیجے کی جانب بڑھ رہی ہے، خواجہ آصف
ایک تائیوانی سیکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چینی بحری سرگرمیوں میں اضافہ پہلے ہی بیجنگ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے قبل دیکھا گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ان جہازوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
دوسری جانب چین کا مؤقف ہے کہ تائیوان اس کی خودمختار سرزمین کا حصہ ہے، جبکہ اس معاملے پر عالمی سطح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
ادھر رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ تائیوان کے ساتھ دفاعی تعاون اور اسلحہ فروخت جیسے معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے اور مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے میں رہتے ہیں۔












ہفتہ 23 مئی 2026 