کراچی میں اسٹریٹ کرائم (Street Crime)ایک بار پھر شہریوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ رواں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران شہر میں 14 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 26 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شہر کے باسیوں میں یہ خوف تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ گھر سے نکلنے کے بعد نہ صرف موبائل فون، نقدی، گاڑیاں اور دیگر قیمتی اشیا چھن سکتی ہیں بلکہ جان کا خطرہ بھی ہر وقت موجود ہے۔ شہریوں کو شارٹ ٹرم اغوا اور بینک اکاؤنٹس خالی کیے جانے جیسے جرائم کا بھی سامنا ہے۔
سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں اسٹریٹ کرائم کی 5 ہزار 125 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، فروری میں یہ تعداد 4 ہزار 608 رہی جبکہ مارچ میں 4 ہزار 869 وارداتیں سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر جدید طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ شہر میں نصب نگرانی کیمروں سے بچنے کے لیے ملزمان کرائے کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور ان کی نمبر پلیٹس تبدیل کرکے وارداتیں کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں؛شکارپور کے علاقہ کچے میں سندھ پولیس کا کامیاب آپریشن، اغوا شدہ بچی بحفاظت بازیاب
دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، تاہم زمینی حقائق اور شہریوں کے خدشات اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
کراچی میں بڑھتے جرائم کے ساتھ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قتل اور ڈکیتی کی کئی سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان اب تک قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
ان ہی واقعات میں تحریکِ آزادی سے وابستہ شخصیت کیف بنارسی کے پوتے علی رہبر کا قتل بھی شامل ہے، جنہیں دو سال قبل ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کر دیا گیا تھا، مگر تاحال قاتل گرفتار نہیں ہو سکے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائیاں ضرور کر رہے ہیں، لیکن کراچی جیسے بڑے شہر میں عوام کو تحفظ کا احساس دلانے اور اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اور مستقل اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔












ہفتہ 23 مئی 2026 