پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال(Iranian Rial) کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں اس کی طلب میں اضافے نے مقامی ریٹس کو متاثر کیا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق لاہور، کراچی اور کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث قیمتیں غیر معمولی حد تک اوپر نیچے ہو رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ایک کروڑ ایرانی ریال پر مشتمل بنڈل کی قیمت تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہے، تاہم یہ شرح مارکیٹ کے مطابق مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال کی طلب میں اضافہ زیادہ تر قیاس آرائیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان کی وجہ سے ہوا ہے، کیونکہ کچھ ٹریڈرز یہ توقع کر رہے ہیں کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پا گیا اور پابندیوں میں نرمی ہوئی تو ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی توقع کے باعث بعض سرمایہ کار موجودہ کم قیمت پر ریال خرید کر مستقبل میں منافع حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں مصنوعی دباؤ بھی دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم مالی ماہرین نے اس رجحان پر احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی ریال ایک غیر مستحکم کرنسی ہے اور عالمی سطح پر اس کی قدر مختلف سیاسی و معاشی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت کسی بھی وقت تیزی سے گر بھی سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کرنسی کی ایسی خرید و فروخت میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور سرمایہ کاروں کو جذباتی فیصلوں کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنانی چاہیے۔












اتوار 24 مئی 2026 