فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے معاشی پلان دیتے ہوئے حکومت کو سفارشات پیش کردیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) عاطف اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ کہ ہم تجاویز پیش نہیں کر رہے، ایک معاشی فریم ورک دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ اور پالیسی سازی میں حکومتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت اور پالیسی میکرز سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں۔
اس موقع پر پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی پہلی بار مکمل معاشی پلان دے رہا ہے۔ ٹیکس پالیسی، اکنامک سروے اور پانچ سالہ ڈویلپمنٹ پلان دیا گیا ہے۔
بجٹ سے متعلق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی حکومت کو اہم تجاویز
اس موقع پر بشیر جان محمد کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد صرف ٹیکسز لگانا نہیں، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بد قسمتی سے کچھ عرصے سے ٹیکس ریلیف نہیں مل رہا، مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
احمد نواز کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر ترقی کرے گا تو نوکریاں ملیں گی، جی ڈی پی بڑھے گا۔ 220 چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کی رائے سے شیڈو بجٹ تیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور سروسز سیکٹر میں گروتھ کا مارجن موجود ہے، ہم فی کس آمدن 1900 سے بڑھا کر 2900 تک لے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:سرکاری تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چینی وزیراعظم سے غیر رسمی ملاقات
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گڈز اور سروسز کی ایکسپورٹس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، کوشش ہے 35 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ 5 سال میں زیرو کیا جائے۔ انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی 14 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد ہونی چاہیے۔












پیر 25 مئی 2026 