بھارت میں کمزور مون سون کا خدشہ، زرعی پیداوار متاثر ہونے کا امکان

Calender Icon ہفتہ 30 مئی 2026

بھارتی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 میں مون سون بارشیں (MoonSoon)معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار، غذائی قیمتیں اور مجموعی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سال مون سون اپنی طویل المدتی اوسط کے تقریباً 90 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو گزشتہ تین برسوں کے دوران پہلی بار کمزور بارشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے، جو خطے کے موسم پر براہِ راست اثر انداز ہو کر جنوبی ایشیا میں بارشوں کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مون سون جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے اور بھارت کی معیشت میں اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ ملک کی زرعی زمین کا بڑا حصہ بارشوں پر منحصر ہے۔ کم بارشوں کی صورت میں نہ صرف فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ آبی ذخائر اور زیرِ زمین پانی کی سطح بھی گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب کا ایشیا کے لیے خام تیل سستا کرنے پر غور

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں بھی بارشوں میں کمی کا امکان موجود ہے، جس سے ابتدائی زرعی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ پہلے ہی مہنگائی اور علاقائی کشیدگی کے باعث بھارتی معیشت دباؤ میں ہے، جبکہ کمزور مون سون اس دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس سے غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی عدم استحکام کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کی یہی صورتحال برقرار رہی تو بھارت کو زرعی پیداوار اور خوراک کی فراہمی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔