مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان(Zahid Khan) کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق آج 21 جولائی کو اسلام آباد میں سینیٹر زاہد خان اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے درمیان بلوچستان کی مجموعی سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک تفصیلی ملاقات اور مشاورت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ صوبے کے دیرپا مسائل کا مؤثر اور پائیدار حل آئینِ پاکستان، قانون کی بالادستی، قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد پر مبنی سیاسی مذاکرات میں مضمر ہے۔
مزیدپڑھیں:افغانستان کے ون ڈے کپتان حشمت اللہ شاہدی مستعفی
اس موقع پر اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ اگر وفاقی حکومت یا مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سیاسی بصیرت اور مفاہمت کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت بلوچستان کی قوم پرست سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر بامقصد مذاکرات کا آغاز کریں تو مثبت پیش رفت کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ ماضی میں بھی باہمی مشاورت، اعتماد سازی اور سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے اہم قومی امور، بالخصوص اٹھارویں آئینی ترمیم جیسے تاریخی سنگِ میل کامیابی سے طے کیے گئے، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قومی مسائل کا دیرپا حل آئینی و جمہوری طریقۂ کار، مکالمے اور سیاسی افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔
رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر تمام متعلقہ فریقین آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھ کر مذاکرات کی راہ اختیار کریں تو بلوچستان میں امن، استحکام، قومی ہم آہنگی اور ترقی کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہی













بدھ 22 جولائی 2026 

