5 ہزار روپے کے جعلی نوٹ سے کیسے بچیں؟ اسٹیٹ بینک نے طریقہ بتا دیا

Calender Icon پیر 1 جون 2026

پاکستان میں جعلی کرنسی(Fake Currency) کی گردش ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہری بھی مالی نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ملک میں اس وقت سب سے بڑی مالیت کا کرنسی نوٹ 5 ہزار روپے کا ہے، جس کے جعلی نوٹوں کی روک تھام اور عوامی آگاہی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک خصوصی آگاہی ویڈیو جاری کی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 5 ہزار روپے کا نوٹ قانونی طور پر ملک بھر میں رائج ہے اور مالی لین دین کے دوران اس کی اصل اور جعلی میں فرق جاننا انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے نوٹ میں متعدد جدید حفاظتی خصوصیات شامل کی گئی ہیں تاکہ جعل سازی کو روکا جا سکے اور عوام آسانی سے اصل نوٹ کی شناخت کر سکیں۔

واٹر مارک کی خصوصیت

پانچ ہزار روپے کے نوٹ میں قائداعظم کی تصویر والا واٹر مارک شامل کیا گیا ہے جو روشنی میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس تصویر کے نیچے نوٹ کی مالیت “5000” کا الیکٹرو ٹائپ واٹر مارک بھی موجود ہوتا ہے، جو اصل نوٹ کی اہم شناخت ہے۔

حفاظتی دھاگا

نوٹ کے اندر ایک مخصوص حفاظتی دھاگا شامل کیا گیا ہے جو روشنی میں دیکھنے پر عمودی چمکدار پٹی کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔ اس پٹی پر “5000” کی مالیت بھی دیکھی جا سکتی ہے، جو نوٹ کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

آر پار دیکھنے پر مکمل ہندسہ

نوٹ کے اوپری حصے میں مالیت کے ہندسے الگ الگ حصوں میں چھپے ہوتے ہیں، تاہم جب نوٹ کو روشنی کے سامنے رکھا جاتا ہے تو یہ تمام حصے مل کر مکمل “5000” ظاہر کرتے ہیں۔

رنگ بدلنے والا قومی پرچم

نوٹ کے سامنے دائیں جانب قومی پرچم خصوصی سیاہی سے پرنٹ کیا گیا ہے۔ مختلف زاویوں سے دیکھنے پر اس کا رنگ تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو جعلی نوٹوں میں نقل کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

مزیدپڑھیں:200 یونٹ بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کی سبسڈی ختم نہیں ہو رہی، وزیر توانائی

بینائی سے محروم افراد کے لیے نشانات

نوٹ کے بائیں جانب تین ابھرے ہوئے دائرے بنائے گئے ہیں، جنہیں چھو کر بینائی سے محروم افراد نوٹ کی مالیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

پوشیدہ مالیتی ہندسہ

قائداعظم کی تصویر کے دائیں جانب “5000” کا ایک پوشیدہ ہندسہ موجود ہے، جو صرف مخصوص زاویے سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔

ابھری ہوئی چھپائی

نوٹ پر قائداعظم کی شیروانی، پانچ ہزار کا ہندسہ اور دونوں اطراف مخصوص لکیریں ابھری ہوئی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔ یہ خصوصیت ہاتھ لگانے سے آسانی سے محسوس کی جا سکتی ہے جبکہ نوٹ کی پچھلی جانب یہی حصے ہموار ہوتے ہیں۔

الٹرا وائلٹ روشنی میں شناخت

الٹرا وائلٹ لائٹ کے نیچے 5 ہزار روپے کے نوٹ میں حفاظتی دھاگے پر نیلی اور پیلی چمکدار پٹیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ قائداعظم کی تصویر کے اطراف مخصوص ڈیزائن اور لیمن گرین رنگ کی باریک چمکدار لکیریں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ بڑے مالیتی نوٹ وصول کرتے وقت ان حفاظتی خصوصیات کا ضرور جائزہ لیں تاکہ جعلی کرنسی سے بچا جا سکے اور محفوظ مالی لین دین کو یقینی بنایا جا سکے۔