عالمی منڈی میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد توانائی مارکیٹ میں نئی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ ڈیل نہ ہونے کی توقعات اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی چین سے متعلق خدشات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسی طرح مرکن خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مختلف ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:ایل پی جی 1روپے 32 پیسے فی کلو مہنگی
ادھر متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.66 درہم سے بڑھ کر 3.95 درہم فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اسپیشل 95 پیٹرول کی قیمت 3.55 درہم سے بڑھ کر 3.83 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا براہ راست اثر درآمدی معیشتوں پر پڑتا ہے، اور پاکستان جیسے ممالک میں یہ صورتحال مہنگائی کی نئی لہر کا سبب بن سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں عدم استحکام کے باعث حکومتوں کے لیے قیمتوں کو مستحکم رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔












پیر 1 جون 2026 