امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت موجودہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششیں مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکا کے مذاکرات تیزی سے جاری ہیں اور مختلف معاملات پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران کی جانب سے پیغامات کے تبادلے میں تعطل پیدا ہونے کے بعد امریکا دوبارہ فوجی کارروائیوں کی طرف جا سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:فارم 45 کی حفاظت عوام کرے،کوئی فارم 47 نہیں آئے گا: بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیغامات کی معطلی سے انہیں کوئی خاص مسئلہ نہیں، کیونکہ سفارتی عمل میں ایسے مراحل آتے رہتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکا فوری طور پر دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھے گا اور اس وقت کا انتظار کرے گا جب تہران واشنگٹن کی قابل قبول شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بحری ناکا بندی برقرار رکھی جائے گی اور اس حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی نرمی نہیں کی جا رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگر آئندہ دنوں میں کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے عالمی تیل کی منڈی، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔












منگل 2 جون 2026 