آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پاور ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام(development programme) کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق 48 منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پہلے سے جاری 45 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 86 ارب روپے جبکہ 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویزات میں قومی گرڈ نظام کی توسیع اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے متعدد منصوبوں کیلئے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کیلئے 70 کروڑ روپے جبکہ این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن کیلئے 3 ارب روپے مختص کرنے کا پلان تجویز کیا گیا ہے۔
داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کے انخلا کیلئے 10 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سوکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹرانسمیشن لائنوں کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح مہمند ڈیم سے بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کیلئے ترسیلی نظام پر 3 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق میپکو کے بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری کیلئے 3 ارب روپے، جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے 2 ارب 41 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے 9 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
مزید برآں سندھ کے 10 اضلاع میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے 2 ارب 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بجلی کے استعمال کی نگرانی اور بہتری کیلئے پاور کنزمپشن ڈیوائسز کی تنصیب پر 3 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی وژن 2030 ء پاکستان کے بحری شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں بجلی کی ترسیل، تقسیم اور قومی گرڈ کے استحکام سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔












بدھ 3 جون 2026 