سرامک ٹائلز، شیشہ درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی، مقامی صنعتوں کی مکمل بندش کا خدشہ

Calender Icon جمعرات 4 جون 2026

سرامک ٹائلز اور شیشہ سازی کی ایسوسی ایشنز نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان (haroon akhtar khan)کو خطوط لکھ دیے اور کہا کہ ان اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز میں مزید کمی کی گئی تو یہ صنعتیں مکمل طور پر بند ہوجائیں گی،

موجودہ معاشی حالات اور پالیسی مسائل کے باعث پہلے ہی دونوں صنعتیں 50 فیصد بند ہو چکی ہیں۔

پاکستان کی سیرامک ٹائلز اور شیشہ سازی کی صنعتوں نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت درآمدی ڈیوٹیز میں مزید کمی کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مقامی صنعت کو مناسب تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دونوں شعبے مکمل بندش کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

آل پاکستان سرامک ٹائلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور پاکستان گلاس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ دونوں صنعتیں اپنی مجموعی پیداواری صلاحیت کے صرف 50 فیصد پر کام کر رہی ہیں جبکہ باقی 50 فیصد پیداواری یونٹس بند ہو چکے ہیں۔

سرامک ٹائلز صنعت کے سیکریٹری جنرل عاطف اقبال نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی ڈیوٹیز میں مزید کمی سے سستی درآمدی ٹائلز کی آمد میں اضافہ ہوگا جس کا مقابلہ مقامی صنعت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سیرامک ٹائلز صنعت مکمل بندش کی طرف جا سکتی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر روزگار اور معیشت متاثر ہوگی۔

دوسری جانب پاکستان گلاس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل داؤد الرشید نے کہا کہ شیشے کی درآمدات پر ڈیوٹیوں میں مزید کمی سے مقامی گلاس انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں:میرے جنگی اختیارات محدود کرنے کیلئے ’’بےمعنی ‘‘ووٹنگ کی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ شیشہ سازی کی صنعت پہلے ہی نصف پیداواری صلاحیت تک محدود ہوچکی ہے اور مزید درآمدی سہولتوں سے مقامی سرمایہ کاری، روزگار اور معیشت کو بھاری نقصان پہنچے گا۔