عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمتیں تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے اجلاس نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,133.39 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔ گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران سونے کی قیمت 4,165.87 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، جو 7 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچر کی اگست کے لیے قیمت میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 4,136.80 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کو عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث سہارا مل رہا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ڈیڑھ فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملے اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بتائی جا رہی ہیں۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مزیدپڑھیں:مچھروں کا تعاقب کرکے انہیں نشانہ بنانے والا مائیکرو ڈرون تیار
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکی ڈالر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مضبوط رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ اسی دوران امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ بھی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کی وجہ مہنگے تیل کے باعث افراطِ زر میں دوبارہ اضافے اور شرح سود بلند رہنے کے خدشات ہیں۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں فوری تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ تاہم فیوچر مارکیٹس رواں سال کے اختتام تک کم از کم ایک مرتبہ شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلند شرح سود عام طور پر سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کی کشش کو کم کر دیتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے بعد 59.78 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,646.57 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم 0.4 فیصد بڑھ کر 1,296.50 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔













جمعرات 23 جولائی 2026 

