قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیری(azadkashmir assembly) مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، انتخابی پیچیدگیاں دور کرنا اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول بنائے جانے کے لیے ضروری اصلاحات اسمبلی کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔
مہاجرین کی نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں ریفرنس دائر۔قرارداد کے متن کے مطابق آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں۔
مزید پڑھیں:سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں مہنگی کردی
مزید کہا گیا ہے کہ اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔ سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔












جمعہ 5 جون 2026 