فیفا ورلڈ کپ 2026: ایران کے کھلاڑیوں کو ویزے مل گئے، انتظامی وفد پر پابندی برقرار

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

فیفا (FIFA) ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان ویزوں کا معاملہ ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ امریکی حکام نے ایرانی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیکنیکل اسٹاف کو ویزے جاری کر دیے ہیں، تاہم ٹیم کے انتظامی، فیڈریشن اور معاون عملے پر مشتمل 15 رکنی وفد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا اور بعض سفارتی ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس اور انقرہ میں تعینات امریکی سفیر ٹام بیرک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کھلاڑیوں کے ویزے طویل انتظار کے بعد جاری کیے گئے تاکہ ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکے، تاہم انتظامی وفد کے ارکان اس سہولت سے محروم رہے۔

متاثرہ افراد میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج، سیکریٹری جنرل ہدایت ممبینی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر مہدی خراٹی، میڈیا ڈائریکٹر محسن معتمد کیا سمیت دیگر تجزیہ کار اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ویزا نہ دینے کی ممکنہ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ مذکورہ افراد کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) یا حساس حکومتی اداروں سے مبینہ روابط رہے ہیں۔ اسی وجہ سے فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو اس سے قبل ورلڈ کپ ڈرا کے موقع پر بھی ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں؛فیفا ورلڈ کپ 2026: فرانس فیورٹ، برازیل کے لیے خطرے کی گھنٹی؟ ماہرین کی دلچسپ پیشگوئی

ایران نے امریکی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے کھیلوں میں سیاسی مداخلت اور امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ٹیم کے لیے انتظامی اور تکنیکی عملہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اس طرح کی پابندیاں میزبان ملک کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھاتی ہیں۔

ایران نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور امریکا کے رویے کا جائزہ لے۔

دوسری جانب ویزا مسائل اور سکیورٹی خدشات کے باعث ایران نے اپنا ابتدائی بیس کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو کے شہر تیجوانا منتقل کر دیا ہے۔ ٹیم میکسیکو میں قیام کرے گی اور وہاں سے اپنے میچز کے لیے امریکا کے مختلف شہروں کا سفر کرے گی، جبکہ ویزا سے محروم ارکان کے لیے بھی سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔