گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں پر نئے انتخابی دنگل (GB Elections)کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صبح سے ہی ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہے، سیاسی جماعتوں کے مابین سخت اور کانٹے دار مقابلے کی لہر موجود ہے، الیکشن کیلئے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا، جو کسی بھی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک جاری رہے گا، تمام اضلاع میں ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں.
اس انتخابی معرکے میں مجموعی طور پر 403 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز نے سب سے زیادہ 23 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، ن لیگ کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے 15 امیدوار حصہ لے رہے ہیں.
اسلامی تحریک پاکستان کے 10 امیدوار میدان میں موجود ہیں، پاکستان نظریاتی پارٹی کے بھی 10 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ف کے 9 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، مجلس وحدت المسلمین کے 7 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جو اپنا جمہوری حق استعمال کریں گے، مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 37 ہزار 72 ہے.
خواتین ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 557 ہزار 8 ہے، انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں، مجموعی طور پر 1 ہزار 391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ قائم کردہ مجموعی پولنگ اسٹیشنز میں سے 349 کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دے کر وہاں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 17 ہزار 500 پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں.
چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون، تصاویر کھینچنے یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو لے جانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولنگ کا عمل صبح سے بلاتعطل اور پرامن طور پر جاری ہے، گلگت بلتستان کے عوام علاقے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور پرامن طریقے سے اس انتخابی عمل کو انجام تک پہنچائیں.
مزید پڑھیں:سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے بڑا تجربہ ’فیفا ورلڈ کپ 2026‘ میں کرنے کا فیصلہ
عوام میں شدید جوش و خروش پایا جاتا ہے اور بالخصوص لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے نکل رہی ہے، ان کے تحفظ اور شفاف ووٹنگ کے لیے سکیورٹی کے بہترین اور مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔












اتوار 7 جون 2026 