بلوچستان، موسیٰ خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، نڈر صحافی لالا اسرافیل قتل

Calender Icon اتوار 7 جون 2026

بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے مقامی بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سینیئر صحافی لالا اسرافیل(lala israfeel) خان جاں بحق ہو گئے ہیں۔

لالا اسرافیل عوامی مسائل، محرومیوں اور عام لوگوں کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے والے ایک نڈر اور بے باک صحافی تھے، جو ہم نیوز کے علاوہ دیگر میڈیا ہاؤسز کے لیے موسیٰ خیل سے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب حملہ آوروں نے لالا اسرافیل کو دکان کے باہر نشانہ بنایا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

جائے وقوعہ پر موجود مقتول کے چھوٹے بھائی کے مطابق مسلح افراد لالا اسرافیل پر فائرنگ کرنے کے بعد ڈاکٹرز والی گلی کی جانب فرار ہو گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرکے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ایس ایچ او محمد خان کے مطابق لالا اسرافیل کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

مقامی شہریوں نے اس المناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لالا اسرافیل ایک مخلص عوام دوست اور پیشہ ور صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی، ان کی شہادت موسیٰ خیل کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے ان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یونین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جائے، قتل کے اصل محرکات اور مقاصد کا پتا لگایا جائے اور ملوث عناصر کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران ملک بھر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم 137 مصدقہ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 8 صحافیوں کا قتل بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں:گلگت، ن لیگ، پیپلز پارٹی ورکرز آمنے سامنے، ہاتھا پائی و تلخ کلامی، دھاندلی الزامات

اس کے علاوہ گزشتہ سال صحافیوں پر جسمانی تشدد اور بدتمیزی کے 35 واقعات، فرائض کی ادائیگی کے دوران 2 صحافیوں کے زخمی ہونے، 5 کو حراست میں لیے جانے، 2 کے اغوا اور میڈیا ہاؤسز یا املاک پر چھاپوں اور حملوں کے 4 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔