بجٹ سے قبل ہی کاروباری حلقوں میں بے یقینی، لاہور چیمبر نے معاشی اصلاحات پر زور دے دیا

Calender Icon پیر 8 جون 2026

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل (Faheem-ur-Rehman Sehgal) نے کہا ہے کہ بجٹ کی آمد سے پہلے ہی ملک بھر کے کاروباری طبقے میں بے یقینی اور تشویش کی فضا پیدا ہو جاتی ہے، جو معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ صنعت و تجارت کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ملک اور ادارہ اپنی مالی منصوبہ بندی پہلے سے کرتا ہے، لیکن پاکستان میں بجٹ کے اعلان سے قبل غیر یقینی صورتحال کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی توازن طویل عرصے سے خسارے کا شکار ہے اور مسلسل خسارے کے بجٹ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی استحکام کے لیے بنیادی اور مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی ضمانت ہے، اس لیے معاشی سمت درست کیے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام 2027 تک جاری رہے گا، اس دوران پالیسی سطح پر بہتری اور خود انحصاری کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں؛بجٹ سے قبل ہی سولر پینلز کی قیمتیں فی پلیٹ 7 تا 9 ہزار روپے بڑھ گئیں

ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال اہم ہے کہ حکومتی سطح پر کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے کتنے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 65 فیصد نوجوان آبادی ایک بڑا معاشی اثاثہ ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے روزگار اور مواقع میں اضافہ ضروری ہے۔

سیمینار میں پیش کی گئی سفارشات میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، کم از کم اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، سولر توانائی کے فروغ، زرعی شعبے کے لیے سبسڈی، چھوٹے تاجروں اور صنعتوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج، ایف بی آر میں اصلاحات، نوجوانوں کے لیے روزگار کے پروگرام، مہنگائی میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام جیسے اقدامات شامل تھے۔

مقررین نے اس موقع پر معیشت کے استحکام، عوامی ریلیف اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔