ایران اور اسرائیل میں دوبارہ کشیدگی، جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے

Calender Icon پیر 8 جون 2026

ایران (Iran) اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف میزائل اور فضائی حملے کیے ہیں۔ تازہ صورتحال نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے تہران، تبریز، اصفہان اور دیگر ایرانی شہروں میں حملے کیے، جبکہ اس سے قبل ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم زمینی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں؛مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان صورتحال مزید بگڑ گئی

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات نے لبنان، ایران اور اسرائیل کے تنازعات کو مزید ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں کو وسیع تر علاقائی مسئلہ سمجھتا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بنا کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں جانب سے حملے محدود نوعیت کے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کسی بھی وقت بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس دوران امریکہ کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن واشنگٹن اور تل ابیب کے مؤقف میں بعض معاملات پر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ کشیدگی محدود رہتی ہے یا خطہ ایک نئے اور وسیع بحران کی طرف بڑھتا ہے۔