مالی سال 26-2025 کا اقتصادی جائزہ جاری، حکومت اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام

Calender Icon جمعرات 11 جون 2026

وزیرخزانہ محمداورنگزیب(Aurangzeb) نےمالی سال 26-2025 کا اقتصادی جائزہ جاری کردیا۔

اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے وقت وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

محمداورنگزیب نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی۔

اقتصادی سروے کے مطابق پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.7 فیصد، شرح نمو 6.6 فیصد رہی، معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد،اس کی شرح نمو 0.38 فیصد رہی، صنعت کیلئےترقی کا ہدف 4.3 فیصد،شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد،شرح نمو 1.6 فیصد رہی، جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد، شرح نمو 2 فیصد رہی۔

رواں مالی سال درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر،11ماہ میں 63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیاکی برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر،11ماہ میں 28 ارب ڈالر رہیں، ترسیلات زرجون کےآخرتک41ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

دستاویز کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا،11ماہ میں ترسیلات38 ارب ڈالر رہی۔ خدمات کے شعبے کی کارکردگی 4 فیصد ہدف سے معمولی زیادہ 4.09 فیصد رہی، صنعتی شعبےکی گروتھ 4.30ٹارگٹ کے برعکس 3.51 فیصد رہی۔

اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی4.5ہدف کے مقابلے2.89 فیصد رہی، زرعی،صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی رواں مالی سال حاصل نہیں ہوسکا۔

مزیدپڑھیں:نائٹ کلب واقعہ ایسا جرم نہیں کہ بین اسٹوکس کو فارغ کر دیا جائے: ناصر حسین

ڈالرز میں فی کس آمدن 150ڈالر اضافے سے1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال فی کس آمدن کاسالانہ ہدف 5لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا، رواں مالی سال فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی۔

مئی2026میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی، اوسطاً مہنگائی7.50 سالانہ ہدف کےمقابلے11ماہ کے دوران 7 فیصد رہی، ملکی معاشی شرح نمو 4.2 ہدف کے برعکس 3.7 فیصد تک محدود رہی۔

دستاویز کے مطابق لائیو اسٹاک شعبےمیں 3.75 فیصد بہتری، پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد61 لاکھ 60 ہزار، ملک میں اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار،گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزارہوگئی۔ دنبےاوربھیڑ کی تعداد3کروڑ 35 لاکھ،بکری اور بکرے 9 کروڑ 18 لاکھ، بھینسوں کی تعداد4 کروڑ91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ہوگئی۔

پھلوں کی پیداوار میں2.8 فیصداضافہ ہوا،پیداوار 444 ہزار ٹن رہی، سبزیوں کی پیداوار12.6 فیصد بڑھی،مجموعی پیداوار 403 ہزار ٹن رہی۔ آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11.6، 25.1 اور 9.2 فیصد اضافہ ہوا۔

ملک میں آلو کی پیداوار 27.6 فیصد،کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھی، چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی، کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کم پیداوار 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں رہی، مکئی کی پیداوار 2.68فیصد کمی سے 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی۔

گنےکی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ، پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی، چاول کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن ریکارڈ ہوئی، گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 4.5 فیصد کی نسبت شرح نمو 0.65 فیصد رہی۔

نجی شعبے کیلئےترقی کی شرح کا ہدف 4.5، شرح نمو 3.6 فیصد رہی، سماجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح کا ہدف 4 فیصد،شرح نمو 6.8 فیصد رہی، تعلیم میں شرح نمو 4.5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5.2 فیصد رہی، رئیل اسٹیٹ سیکٹرمیں ترقی کا ہدف4.2، شرح نمو 3.6 فیصد رہی۔

اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران انشورنس،مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد،گروتھ صفر 0.32 فیصد رہی، مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کے مقابلے 7.5 فیصد رہا، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کےشعبے میں ترقی کا ہدف 4.1، شرح نمو 3.9 فیصد رہی، ٹرانسپورٹ شعبےکیلئےترقی کا ہدف 3.4 فیصد ،شرح نمو2.3 فیصد تک رہی۔

ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.9، شرح نمو 3.7 فیصد، تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، ترقی 5.7 فیصد رہی۔

بجلی، گیس اور واٹر سپلائی میں 10 فیصد تک گراوٹ رہی، بجلی،گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3.5 گروتھ منفی ریکارڈ کیا گیا۔ چھوٹی صنعتوں کیلئےترقی کا ہدف 8.9 فیصد ترقی کی شرح 8.5 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا،شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔