اسلام آباد، وفاقی وزیر صحت(federal health minister) مصطفی کمال نے ہیلتھ کیئر کو نیشنل سکیورٹی ایشو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جارہے ہیں۔
جینوم پروفائل سے متعلق پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو نئی ٹیکنالوجی اور جدید رپورٹس کو ترجیح دینا ہوگی، ہیلتھ کیئر نیشنل سکیورٹی ایشو ہے، ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جا رہے ہیں
ملک میں کوئی وبا نہیں پھوٹی ہوئی لیکن اسپتالوں میں وبائی مرض کی صورتحال ہے، ہمارا نظام بیماری کا نظام ہے، اسپتال بھرے پڑے ہیں۔
سالانہ بیماریوں پر 200 سے 300 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، لاکھوں روپوں کے ٹیسٹ کراتے ہیں، ہم نیوکلئیر پاور، جدید لیبز ہونی چاہئیں، بجٹ میں کٹوٹی پر کٹوتی مگر ہم ہار نہیں مانیں گے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں ہیلتھ کیئرکیلئے شادی سے قبل اسکریننگ کی جانب جانا ہوگا جس کیلئے اسکریننگ سینٹرز بنا رہے ہیں، شادی سے پہلے تھیلیسیما کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی عارضی تاریخوں کا اعلان
ملک 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی بننے جا رہا ہے، معاشی بحران اور وسائل کی کمی کے باعث برین ڈرین ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کوئی بھی ملک برین ڈرین برداشت نہیں کرسکتا۔












جمعرات 11 جون 2026 