وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ(Murad Ali Shah) کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا ہے تاہم اب ملازم کی کم سے کم تنخواہ 43 ہزار 500 ہوگی۔
تفصیلات کے مطبق وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ بجٹ برائے مالی سال 2026-27 کے بعد پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجٹ کے خدوخال، معاشی اہداف اور وفاق کے ساتھ مالیاتی معاملات کی تفصیلات جاری کر دی۔
وزیرِاعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ وفاق سے فنڈز کی کمی کے باعث صوبے کا ترقیاتی بجٹ براہِ راست متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے نئے سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کوئی بھی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی، تاہم اگلے سال تک صوبے میں 2056 جاری اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا ہے، جس کا مجموعی حجم 1264 ارب روپے بنتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ سال 2025ء میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف اب بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ صوبے کے غریب محنت کشوں کے لیے کم سے کم اجرت بڑھا کر 43 ہزار 500 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے ملکی دفاع اور وفاق کے ساتھ تعاون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت این ایف سی میں واضح لکھا ہے کہ صوبوں کی رقم کم نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، موجودہ مشکل وقت میں چاروں صوبوں نے ملک کی خاطر وفاق کو بھرپور سپورٹ کیا ہے، آئین کے آرٹیکل 164 کا استعمال کرتے ہوئے صوبوں نے ملکی دفاع کی خاطر وفاق کو بھاری گرانٹس دیں، جس کی صوبوں کو بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ اس بجٹ میں سے بھی 260 ارب روپے سندھ حکومت نے وفاق کو دینے ہیں۔
بجٹ کے مالیاتی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا سندھ کے مجموعی انکم بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے ہے، کرنٹ ریونیو ایکسپینڈیچر (جاری اخراجات) کا حجم 2 ہزار 560 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
اس کے ساتھ وفاق سے سندھ کو ریونیو اسائنمنٹ کی مد میں 2 ہزار 83 ارب روپے جبکہ اسٹیٹ ٹرانسفر سے 1 ہزار 60 ارب روپے ملیں گے جبکہ مجموعی طور پر سندھ کو وفاق سے 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے ہیں۔
صوبائی ٹیکسز اور سروسز کی مد میں اس سال کلیکشن 380 ارب روپے رہی، جبکہ اگلے سال کے لیے 456 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے ایف بی آر کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر ہر سال اپنا ٹارگٹ پورا نہیں کرتا اور اس کی گروتھ صرف 10 سے 11 فیصد پر رکی ہوئی ہے، جبکہ سندھ کی اپنی ریونیو گروتھ 23 فیصد ہے اور یہ مسلسل 14 سال سے بڑھ رہی ہے، اگر ایف بی آر نے اس سال 15.264 ٹریلین روپے کا ہدف پورا کیا تو اگلے سال بینچ مارک فکس ہو جائے گا، اور صوبوں کو 13.35 ٹریلین کی وصولیوں پر اپنا حصہ ضرور ملے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی اور فارن فنڈڈ منصوبوں میں صوبے کا جو حصہ بنتا ہے، وہ ہر صورت ادا کیا جائے گا۔ حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی گئی ہے۔












جمعرات 18 جون 2026 