اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئرامیرمقام (AMIR MUQAK)نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران سابقہ فاٹا، پاٹا اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ، تمباکو سیکٹر کو درپیش مسائل اور تمباکو پر عائد مجوزہ ٹیکسوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انجینئرامیرمقام نے سابقہ فاٹا، پاٹا اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیوں سے گزرے ہیں اور یہاں کے عوام مزید معاشی بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
وفاقی وزیر نے تمباکو کاشتکاروں، تاجروں، صنعتکاروں اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں مزدوروں کے مسائل بھی وزیر خزانہ کے سامنے اٹھاتے ہوئے تمباکو پر مجوزہ اضافی ٹیکسز اور سیس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سوات، صوابی، مردان، بونیر اور دیگر اضلاع میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار تمباکو صنعت سے وابستہ ہے، لہٰذا ایسے اقدامات سے مقامی معیشت اور روزگار بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
انجینئرامیرمقام نے زور دیا کہ سابقہ فاٹا و پاٹا کے ٹیکس استثنیٰ اور تمباکو سیکٹر کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام، کاشتکاروں اور تاجروں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے انجینئرامیرمقام کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو غور سے سنتے ہوئے متعلقہ معاملات کا جائزہ لینے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔












جمعرات 18 جون 2026 