گلگت بلتستان میں حکومت سازی ،اندرون خانہ کیا چل رہا؟اہم انکشافات

Calender Icon جمعہ 19 جون 2026

اسلام آباد (طارق محمود سمیر ) گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے مرحلے کے لیے پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ نون سے رابطے شروع کر دیئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ اتحاد کی تجویز پر تحفظات ظاہر کر دیئے ہیں اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چار آزاد ارکان کو استحکام پاکستان پارٹی میں شامل کروا کر پیپلز پارٹی کوکوئی پیغام دیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت سے بلاول بھٹوزرداری اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی ملاقات میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ دونوں جماعتیں مل کر جی بی میں حکومت بنائیں گے ،وزیر اعلی پیپلز پارٹی سے ہوگا ڈپٹی سپیکر مسلم لیگ نون سے لیا جائے گا اور اپوزیشن لیڈر بھی مسلم لیگ نون کا ہوگا، وزیر اعلی کے انتخاب میں مسلم لیگ نون ووٹ دے گی تام بعد میں وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔

اس سارے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر حکومت سازی کریں گی اور اس کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ نون لیگ کی قیادت سے رابطے ہوئے ہیں اور ابھی تک یہی بات طے ہوئی ہے کہ ڈپٹی سپیکر مسلم لیگ نون کا ہو گا مسلم لیگ نون کوئی وزارتیں نہیں لے گی اور اپوزیشن لیڈر بھی مسلم لیگ نون سے ہوگا جبکہ گورنر کا عہدہ بھی مسلم لیگ نون کے کسی رہنما کو دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم ، بلاول بھٹو اہم ملاقات، جی بی حکومت اور بجٹ پر تفصیلی گفتگو

قمر زمان قائرہ سینیٹر پلوہ شاہ خان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی سے اتحاد کی تجویز اور خبروں پر تحفظات ظاہر کر دیے ہیں۔ قمر زمان قائرہ نے اس بات پر ایرانگی کا اظہار کیا ہے کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ تمام چار آزادار کان استحکام پاکستان پارٹی میں کیسے شامل ہوئے حالانکہ استحکام پاکستان پارٹی نے 15 امیدوار کھڑے کئے تھے اور ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی ۔

انہوں نے اس بات پر بھی حیرانگی ظاہر کی کہ دو ہزار ارکان ایسے ہیں جن کے متعلق مسلم لیگ نون کا یہ موقف ہے کہ وہ ان کی حمایت سے جیتے اور ان حلقوں میں نون لیگ نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا وہ بھی استفقام پاکستان پارٹی میں چلے گئے ہیں اور تاثر یہی دیا جارہا ہے کہ یہ چاروں کو وزارتیں دی جائیں گی۔

قمر زمان کائرہ کا موقف ہے کہ ہمارا مسلم لیگ نون سے رابطہ ہے جبکہ پی ٹی آئی کے دو آز ادارکان اور ایم ڈبلیوایم کے ایک رکن سے بھی حکومت سازی کے لیے رابطے ہورہے ہیں اور بہت جلد صورتحال واضح ہو جائے گی ۔مسلم لیگ نون کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے رابطے ضرور جاری رکھے جائیں گے لیکن جی جی حکومت میں مسلم لیگ نون شامل نہیں ہوگی ۔

آئی پی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ تیسری بڑی پارلیمانی جماعت ہے اور حکومت سازی میں اس کا بڑا عمل دخل ہوگا پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون سے پارٹی صدر اور وفاقی وزیر علیم خان کے رابطے جاری ہیں۔ ایک تجویز آئی تھی کہ پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی مل کر مخلوط حکومت بنا ئیں اور اس کے لیے بات چیت بھی ہوئی ہے اور بات چیت کا عمل جاری ہے۔