خیبر پختونخوا، خسارے کا بجٹ، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائیگی: شفیق جان

Calender Icon ہفتہ 20 جون 2026

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان (Shafi Jan)نے کہا ہے کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی۔ بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے۔

پشاور میں مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفر کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ وفاق سے زیادہ لوگوں کو خیبر پختونخوا کے بجٹ کا انتظار تھا۔ خیبرپختونخوا کا بجٹ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تین مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا ارادہ تھا۔ تین ماہ کے بجٹ میں قانونی پیچیدگیاں آرہی تھیں۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی۔ بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جب تک ملاقات نہیں ہوتی ہم کٹوتی نہیں کرنے دیں گے۔شفیق جان نے کہا کہ 7 ماہ سے بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔

اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے وفاق سے کہا کہ ہمیں بانی سے مشورے کا موقع دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ چاروں صوبے پیسے دیں گے جبکہ ایسا نہیں۔ پی ایس ڈی پی کا ازسر نو جائزہ اور دیگر چیزیں ایجنڈے میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل متعلقہ فورم نہیں، لیگل فورم صرف این ایف سی ہے۔ 5 ہزار 260 ارب روپے ایف بی آر جمع کرے گا تو وہ صوبوں میں بانٹا جائے گا۔ وفاق صوبوں کے پیسے نہیں کاٹ سکتا، وفاقی بجٹ سے صوبائی بجٹ اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 6 ماہ میں این ایف سی ہوگا۔ وہ ہمارے پیسوں پر کٹ نہیں لگا سکتے، اس کیلئے ترمیم کرنی ہوگی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے باعث عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ عام آدمی کی پوزیشن کو نارمل کرنے کیلئے صوبائی بجٹ ہوتا ہے۔ ضم اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب کا خسارہ ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ میرا چوتھا بجٹ ہے، اس بجٹ کے بعد کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ ہم نے بجٹ سے پہلے سب سے مشاورت کی۔ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سرپلس کے بجٹ کو خسارے کے بجٹ میں تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 180 ارب میں سے وفاق نے صرف 95 ارب دیے۔ بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت اور پولیس کو سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ پچھلے سال بھی ہم نے ٹیکس نہیں لگایا تھا اس سال بھی کم کیا ہے۔ ہم نے چیزیں آسان کی ہیں۔ ڈیجیٹل پیمنٹ میں کےپی سب سے پیچھے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہماری تنخواہوں کا حصہ 58 فیصد ہے۔ صحت کارڈ کیلئے 125 ارب روپے دیے ہیں۔ اس بار پولیس پروکیورمنٹ کیلئے ساڑھے 14 ارب رکھے ہیں۔ بی آر ٹی کیلئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جانے والے ذہین بچوں کو سود سے پاک قرضہ دیا جائے گا۔ ان ذہین بچوں کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے پشاور کیلئے پبلک فری وائی فائے دیا جائے گا۔ فری وائی فائے کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مزید پرھیں:ناصر اقبال اور نور زمان ایشین ڈبلز اسکواش کے فائنل میں پہنچ گئے

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق ہم نے کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے کی ہے، نجی شعبے بھی اس پر عمل کریں گے۔