ایران، امریکہ مذاکرات: 80 منٹ بات چیت کے بعد مشاورت کیلئے وقفہ

Calender Icon اتوار 21 جون 2026

سوئٹزرلینڈ میں امریک اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات(Break in dilogue) میں 80 منٹ بعد وقفہ آیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اس وقفے میں فریقین اپنے وفود کی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس وقت ایرانی وفد، قطری وفد کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔امریکہ اور ایرانی مذاکراتی ٹیموں نے بند کمرے میں پاکستان اور قطری ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے صدر ٹرمپ کی دھمکی آمیز سوشل میڈیا پوسٹ پر احتجاج بھی کیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی وفد اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے آغاز کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ‘ایران لبنان میں اپنے بھاری معاوضہ لینے والے گماشتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے فوری طور پر روکے۔

ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے پر ‘ہم ایران پر دوبارہ سخت حملہ کریں گے، بالکل ویسا ہی جیسا ہم نے گذشہ ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔’

مزید پڑھیں:اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، بچے و خاتون سمیت مزید 7 شہری شہید

واضح رہے کہ امریکہ، ایران میں مفاہمتی یادداشت میں طے کیا گیا تھا کہ لبنان سمیت ‘تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ’ کیا جائے گا۔ تاہم 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔