ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ، ایران نے دوحہ میں ملاقات کی تردید کر دی

Calender Icon منگل 30 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، تاہم قطر کے دارالحکومت دوحہ(Doha) میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان آج دوحہ میں بات چیت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اہم ہو سکتے ہیں، تاہم دیکھنا ہوگا کہ ان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے دوحہ میں امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات یا ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ قطر میں امریکا سے کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایرانی وفد دوحہ ضرور جائے گا، تاہم اس کا مقصد مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق امور پر توجہ دینا ہے۔

مزیدپڑھیں:کیا گووندا کو گولی اہلیہ نے ماری تھی؟ سنیتا آہوجا کا مبہم اور چونکا دینے والا بیان وائرل

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکی نمائندوں کے دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔

اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی واضح کر چکے ہیں کہ رواں ہفتے امریکا کے ساتھ ورکنگ گروپس کی سطح پر کوئی تکنیکی اجلاس طے نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور تمام ضروری شرائط پوری ہونے کے بعد ہی منعقد ہوگا۔