لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن(ilegal emigration) اور غیر ملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دس برسوں کے دوران مزید 45 ہزار غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو برطانیہ سے ملک بدر یا بے دخل کیا جائے گا۔
حکومتی منصوبے کے تحت ملک بدری کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو زیادہ دیر تک کمیونٹی میں آزاد رہنے کے بجائے محفوظ حراست میں رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی گنجائش سے خاص طور پر غیر ملکی مجرموں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو جلد حراست میں لے کر ان کی ملک بدری کے عمل کو تیز کیا جا سکے گا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو مؤثر بنانا، سرحدی سلامتی کو مضبوط کرنا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں:جنوبی لبنان میں بفر زون کا قیام اسرائیل کی اہم کامیابی ہے: نیتن یاہو
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور ملک بدری کے نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے آئندہ بھی عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔












بدھ 1 جولائی 2026 