ن ،پی پی شراکت اقتدار فارمولاخطرے میں ،سرفرازبگٹی کی جے یوآئی بلوچستان کوکابینہ میں شمولیت کی دعوت

Calender Icon بدھ 1 جولائی 2026

اسلام آباد( طارق محمود سمیر ) مسلم لیگ نون(Pmln) اور پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کے فارمولے پر عمل درامد رکوانے کے لیے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے جے یو ائی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے مدد طلب کر لی ہے

اور جے یو آئی کو صوبائی کابینہ میں شمولیت کی پیشکش کر دی گئی ہے ۔ اگر سرفراز اگتی کو وزیر اعلی بلوچستان برقرار رکھا جاتا ہے تو اس صورت میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ابھی تبدیل نہیں ہوں گے اور نہ ہی چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی تبدیلی ممکن ہوگی ۔

اس حوالے سے ائندہ چند دنوں میں اہم فیصلے ہوں گے اور اگر جے یو آئی صوبائی کابینہ میں شامل ہو گئے تو مسلم لیگ نون بلوچستان کی حکومت سے علیحدہ بھی ہو سکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن سے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے ملاقات کی تھی اس میں انہوں نے یہ پیشکش کی کہ جے یو آئی صوبائی کابینہ میں شامل ہو جائے جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ تجویز جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں رکھی جائے گی اور شوری جو فیصلہ کرے گی

اس کی روشنی میں اگے بڑھا جائے گا علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندو خیل ، وزیراعلی سرفراز بگٹی اور مسلم لیگ نون بلوچستان کے اہم رہنماؤں نے سپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں ملاقات کی

جس میں بلوچستان کے امور بالخصوص زیر بحث ائے اور 2024 کے الیکشن کے بعد شراکت اقتدار کا جو فارمولا طے پایا تھا اس کے تحت اڑھائی سالہ مدت پوری ہونے کے بعد بلوچستان کی وزارت اعلی پیپلز پارٹی پہ بھی ہے نون لیگ کو دینے کا فیصلہ ہوا تھا اس معاملے میں بارے میں مسلم لیگ نون بلوچستان کی یہ خواہش ہے کہ سرفراز بگٹی کو عہدے سے ہٹا کر نون لیگ کو وزارت اعلی دی جائے

تاہم بعض حلقوں کی طرف سے سرفراز بگٹی کو مکمل حمایت اور تائید بھی حاصل ہے اسی صورتحال میں انہوں نے جے یو ائی سے بھی مدد طلب کی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے مسلم لیگ نون بلوچستان اور وزیر اعلی سرفراز بگٹی کی رائے سننے کے بعد یہ تجویز دی ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد ہی وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف سے بات چیت کریں گے

مزیدپڑھیں:فیفا: میکسیکو نے ایکواڈور کو شکست دیکر 40 سال بعد کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

اس معاہدے کے تحت 30 اگست کے بعد اگر معاہدے پر عمل کیا جاتا ہے تو سپیکر سردار ایاز صادق بھی اپنے عہدے پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور ان کی یہاں سے ہٹنے کی صورت میں پیپلز پارٹی کو سپیکر کا عہدہ مل جائے گا اور اسی طرح چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اگر اپنے عہدے سے استعفی دیتے ہیں معاہدے کے تحت پھر یہ چیئرمین سینٹ کی نشست مسلم لیگ نون کے کوٹے میں آ جائے گی

اور مسلم لیگ نون کے کسی سینیئر رہنما کو چیئرمین سینٹ بنایا جائے گا جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی کا لیا جائے گا اور اسی طرح قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی سے لے کر واپس مسلم لیگ نون کو دے دیا جائے گا ۔دوسری جانب بلوچستان میں اگر وزارت اعلی تبدیل ہوتی ہے تو پھر گورنر کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس چلا جائے گا اس حوالے سے سرفراز بگٹی جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کی پرفارمنس بہت اعلی رہی ہے اور بالخصوص کالعدم تنظیموں بی ایل اے وغیرہ کے خلاف انہوں نے ڈٹ کر موقف اپنایا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا فعال کردار ادا کیا ہے ۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ اہم فیصلے متوقع ہے علاوہ ازیں مسلم لیگ نون کے پارلیمانی وفد کی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات میں گورنر بلوچستان سمیت ن لیگ کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ،13ارکان صوبائی اسمبلی وزرا نے شرکت کی ۔ ملاقاتوں کے دو دور ہوئے،دوسرے دور میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھی شریک ہوئے ، دوسرے دور میں،صوبے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا ، وزیراعلیٰ کی تبدیلی نہیں ہو رہی تو کابینہ میں ردوبدل کیا جائے:

ن لیگ کو کم وزراتیں دی گئیں،کابینہ میں تبدیلی ناگزیر ہے، ن لیگ نے صوبائی کابینہ میں نئے چہرے شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ ن لیگ وزرا نے صوبائی تنظیم کی تحلیل کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

، گورنر جعفر خان مندوخیل، صوبائی صدر،جنرل سیکرٹری اور ایم پی اے جمال شاہ کو تبدیل کیا جائے گا؛ ۔صوبائی پارلیمانی لیڈر اسلم کھوسو کو بھی تبدیل کئے جانے کی تجویز ہے ، موجودہ صوبائی قیادت پارٹی کو فعال کرنے میں ناکام رہی، روایت سے ہٹ کر صوبائی صدر،جنرل سیکرٹری دونوں پشتون ہیں:پارلیمانی پارٹیصدر یا جنرل سیکرٹری کا ایک عہدہ بلوچ کو دیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی موجودگی میں کسی وزیر،ایم پی اے نے کوئی شکایت نہیں کی: ن لیگی ایم پی ایز کا کام نہ ہونے اور ترقیاتی فنڈز سے متعلق تحفظاتبلوچستان کی پارلیمانی پارٹی کی ہر 3ماہ بعد مرکزی قیادت سے ملاقات طے تھی ، سال بعد ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور اسپکر ایاز صادق سے ملاقات ہوئی ہے،لیگی ایم پی ایزاسحاق ڈار ،ایاز صادق کی تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اوربدورہ تہران،ترکیہ کے بعد پارلیمانی گروپ کی میٹنگ وزیراعظم سے ہو گی ، ناراض ایم پی اے چنگیز خان مری،صوبائی وزیر عبدالرحمٰن کھیتران سمیت 5ارکان شریک نہیں ہوئے ۔