پاکستانی شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت، مایہ ناز سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری(Bushra Ansari) نے آج کل نوجوانوں میں شادی کے حوالے سے بڑھتا خوف اور تنہا زندگی گزارنے کی خواہش کی وجوہات بیان کر دیں۔
انہوں نے اپنے سابق داماد کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ آج کل کس طرح پڑھے لکھے مرد دھوکا دہی سے شادیاں کرتے ہیں، پھر اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کی ذمے داری اٹھانے کے بجائے اپنی بیویوں کے اثاثوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ بشریٰ انصاری کی پہلی شادی ٹی وی پروڈیوسر اقبال انصاری سے ہوئی تھی، جن سے ان کی 2 بیٹیاں، نریمان انصاری اور میرا انصاری ہیں۔
کامیاب فنی کیریئر کے باوجود بشریٰ انصاری کو اپنی نجی زندگی میں متعدد خاندانی مشکلات کا سامنا رہا، جن میں ان کی بڑی بیٹی نریمان انصاری کی طلاق بھی شامل ہے۔
بشریٰ انصاری کے مطابق نریمان کے سابق شوہر نے بیٹی کے ساتھ بے وفائی کی، بچوں کو چھوڑ دیا، مبینہ طور پر ان کے اثاثے بھی اپنے قبضے میں لے لیے اور بعد ازاں اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے۔
ان کی چھوٹی بیٹی میرا انصاری بھی طلاق یافتہ ہیں، تاہم وہ اب اپنی زندگی میں خوش گوار انداز میں آگے بڑھ چکی ہیں۔
حال ہی میں بشریٰ انصاری نے نیا وی لاگ شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے سابق داماد کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے پڑھے لکھے مگر بے شرم مرد بھی دیکھے ہیں جن کی دوسری شادیاں ان کی چالاکی اور عیاری کی وجہ سے کامیاب ہو جاتی ہیں، وہ نہایت شیریں گفتگو کرتے ہیں، اچھی انگریزی بولتے ہیں اور بظاہر انتہائی مہذب دکھائی دیتے ہیں، لیکن دوسری خواتین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی سوچ کتنی گندی ہے اور وہ اپنی سابقہ زندگی میں کیا کچھ کر چکے ہیں۔
مزیدپڑھیں:صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار
اداکارہ کے مطابق ان مردوں کی پہلی شادیوں میں بیویوں کے ساتھ کوئی بڑا مسئلہ یا حقیقی اختلاف نہیں تھا، وہ صرف مادی مفادات کے لیے آگے بڑھ گئے، ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
بشریٰ انصاری نے کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایسے نام نہاد تعلیم یافتہ مگر بدتمیز مردوں کو آج بھی تعلیم یافتہ خواتین مل جاتی ہیں۔
انہوں نے سابق داماد کے حوالے سے کہ ہم نے سنا ہے کہ انہوں نے ایک نہایت تعلیم یافتہ خاتون سے شادی کر لی ہے، لوگوں نے اس خاتون کو بہت سمجھایا، مگر اس نے کسی کی بات نہیں سنی، وہ خاتون اس کے لیے اپنی زندگی قربان کرنے، اس کی کفالت کرنے اور مالی طور پر اس کا سہارا بننے کے لیے تیار ہے، اگر وہ اس کی کفیل بننا چاہتی ہے تو بنے، اس شخص کو ایک اور شکار مل گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ نرم لہجے اور مہذب انداز سے اپنا شکار پھنساتا ہے، اسی طرح اس نے میری بیٹی کو بھی دھوکا دیا تھا اور اب دوسری خواتین بھی تیار بیٹھی ہیں، اب کیا کہا جائے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ایک تعلیم یافتہ صحافی کے بیٹے نے ڈمبلز سے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا؟ ہم اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی زندہ ہے اور خوش ہے۔
بشریٰ انصاری کے مطابق ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اسی لیے لڑکیاں شادی، خاص طور سے دوسری شادی سے خوفزدہ ہیں اور تنہا زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ بعض مرد بھی شادی نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان کی وجہ کفالت کی ذمے داری نہ اٹھانا ہے۔












پیر 6 جولائی 2026 