پنجاب میں زیرِ زمین پانی کا بحران سنگین، بحالی کے لیے 2030 کے اہداف مقرر

Calender Icon پیر 6 جولائی 2026

موسمیاتی تبدیلی، کم ہوتی بارشوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کے پیش نظر پنجاب حکومت نے 2030 تک بارش (Rain)کے پانی کے ذخیرے، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور پانی کے مؤثر استعمال کے اہداف مقرر کیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اہداف پر عمل درآمد کی رفتار سست ہے جبکہ خصوصاً لاہور میں پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔
کلائمیٹ ریزیلینٹ پنجاب وژن اینڈ ایکشن پلان 2024 کے مطابق بڑھتے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں، شہری آبادی میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پنجاب میں آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ری چارج سسٹم نصب کرنے، سیلابی پانی کے بہتر انتظام اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہور اس بحران کی نمایاں مثال بن چکا ہے جہاں مختلف مطالعات کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تقریباً ایک میٹر تک گر رہی ہے۔ گلبرگ، شادمان اور مسلم ٹاؤن سمیت کئی علاقے زیادہ خطرے والے زون قرار دیے جا چکے ہیں۔

واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور نے بارش کے پانی کو خصوصی کنوؤں کے ذریعے دوبارہ زیرِ زمین پہنچانے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ واسا کے ترجمان کے مطابق تاجپورہ، لبرٹی، قذافی اسٹیڈیم اور دیگر مقامات پر ری چارج ویلز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ منصوبے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:ایس آئی ایف سی کی موثر اصلاحات سے سیمنٹ سیکٹر میں بڑی پیش رفت

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 358 زیرِ زمین واٹر ٹینکس کی منظوری بھی دی ہے جن میں 34 بڑے اور 324 سڑک کنارے ٹینک شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنائی جا سکے۔

دوسری جانب واسا لاہور نے شہر میں ایک ہزار ری چارج ویلز بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت تین ری چارج ویلز فعال ہیں اور ہر کنواں روزانہ تقریباً آٹھ ہزار گیلن پانی زمین میں واپس پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیکریٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں لاہور میں 15 مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی تمام پارکوں میں اس مقصد کے لیے جگہ فراہم کرے گی۔

پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ واش سیکٹر ڈویلپمنٹ پلان 2025-35 میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آبی نظام موسمیاتی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ رپورٹ کے مطابق 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید آبی انفراسٹرکچر اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ریسرچ سے وابستہ ڈاکٹر محمد یاسین کا کہنا ہے کہ پانی سے متعلق پالیسیاں تو بن رہی ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد ہے۔ ان کے مطابق صرف ری چارج ویلز کافی نہیں، بلکہ زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال پر قابو پانے، سطحی آبی منصوبوں میں اضافہ اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) پنجاب عمران حمید شیخ نے بتایا کہ حکومت نے 23 نئے سیکٹرز میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے نظام کو لازمی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی اداروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ہوٹلوں، شادی ہالوں، تعلیمی اداروں اور تجارتی عمارتوں کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی تنصیب کو تعمیراتی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے فریش واٹر پروگرام کے ڈائریکٹر سہیل علی نقوی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہروں، خشک سالی اور بے ترتیب بارشوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 13 لاکھ سے زائد ٹیوب ویل زیرِ زمین پانی نکال رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور ری چارج کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔