سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق پاکستانی پوڈکاسٹر ریحان طارق کو لندن سے لاہور پہنچنے کے بعد قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں نے لاہور ایئرپورٹ سے اپنی تحویل میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحان طارق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بجے کے بعد لندن سے لاہور پہنچے، جہاں ابتدائی طور پر انہیں ایئرپورٹ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکاروں نے روکا۔ بعد ازاں کے اہلکار موقع پر پہنچے اور انہیں اپنی تحویل میں لے کر روانہ ہوگئے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریحان طارق کو ایئرپورٹ سے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، تاہم ان کی حراست یا ممکنہ گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
مزیدپڑھیں:یمنیٰ زیدی بھی رونالڈو کی مداح نکلیں، اسٹار کھلاڑی کا آخری میچ اسٹیڈیم میں دیکھا
دوسری جانب قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
ادھر ریحان طارق کے اہلِ خانہ یا قریبی ساتھیوں کی جانب سے بھی تاحال ان رپورٹس کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے صورتحال غیر واضح ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حراست یا گرفتاری سے متعلق حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کے سرکاری مؤقف کا انتظار ضروری ہے۔












بدھ 8 جولائی 2026 