اسلام آباد: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر عبدالقادر(Senator abdul qadir) نے کہا ہے کہ 996 کلومیٹر طویل پاکستان ریلوے لائن کے روہڑی، سبی، کوئٹہ تا تفتان سیکشن کی اپ گریڈیشن بلوچستان کی معدنی معیشت کو ایک نئی اور انقلابی سمت دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کیلئے محض ایک معدنی منصوبہ نہیں بلکہ معاشی خود انحصاری، برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریکوڈک منصوبے کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے، جسے 2033 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد ریکوڈک سے نکلنے والی معدنیات کی محفوظ، تیز رفتار اور کم لاگت ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسیع معدنی ذخائر کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے جدید ریلوے انفراسٹرکچر ناگزیر ہے ۔
بڑے پیمانے پر معدنیات کی نقل و حمل کیلئے ریلوے سڑکوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ذریعہ ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے بتایا کہ منصوبے کی مالی معاونت حکومت پاکستان اور ریکوڈک منرل کمپنی (RDMC) کے اشتراک سے کی جائے گی۔
RDMC تقریباً 390 ملین ڈالر کی برج فنانسنگ فراہم کرے گی، جسے حکومت پاکستان جون 2028 تک واپس کرے گی، جبکہ باقی فنڈنگ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ وزارت خزانہ بروقت مالی منصوبہ بندی کرے تاکہ مستقبل میں قومی خزانے پر غیر ضروری دباؤ نہ آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ دو مراحل اور چار پیکیجز میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں روہڑی تا سبی اور اسپیزند تا عالم ریگ سیکشنز جبکہ دوسرے مرحلے میں سبی تا کوئٹہ اور عالم ریگ تا کوہِ تفتان سیکشن کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
اس اپ گریڈیشن سے نہ صرف ریکوڈک منصوبے کی لاجسٹک ضروریات پوری ہوں گی بلکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تجارت، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور علاقائی رابطوں کو بھی نمایاں فروغ ملے گا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ایم ایل-3 منصوبے کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، تمام مراحل میں شفافیت برقرار رکھی جائے اور بلوچستان کی مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں مؤثر شراکت دار بنایا جائے۔
مزید پڑھیں:کامریڈ شاہد عثمانی کا انتقال، عطاء تارڑ کا اظہارِ افسوس، صحافتی خدمات پر خراجِ تحسین
انہوں نے کہا کہ ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن پاکستان کے معدنی مستقبل کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت مالی نظم و ضبط، مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بناتی ہے تو ریکوڈک نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کیلئے معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور صنعتی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز بن سکتا ہے۔












بدھ 8 جولائی 2026 