ویزہ ہو گا تو رہنے کی اجازت ہو گی ، افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے

Calender Icon جمعہ 17 اکتوبر 2025

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے نمائندے مزمل اسلم اور وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کا آغاز وزیراعظم شہباز شریف کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ٹیلی فونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور وفاق کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اس کے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدم شرکت کی وجہ سے ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں سے مشکلات کا شکار افغانستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی، لیکن دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے ہزاروں قیمتی جانیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں اور ان میں افغانیوں کی شمولیت ناقابل قبول ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے متعدد بار افغانستان کا دورہ کیا اور افغان نگران حکومت سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مذاکرات کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے خوارج کی دراندازی روکنے کے لیے سفارتی اور سیاسی سطح پر بھرپور کوششیں کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں قربانیاں دینے والے پاکستانی عوام سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک غیر قانونی افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی۔ انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں اور وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قریبی تعاون کے ساتھ غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کی جلد وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی شروع ہو چکی ہے۔ 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ افغان مہاجرین کو کوئی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی اور ان کی وطن واپسی کو جلد مکمل کیا جائے گا۔ صرف انہی افغان باشندوں کو پاکستان میں رہنے کی اجازت ہوگی جن کے پاس قانونی ویزہ موجود ہوگا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ غیر قانونی طور پر موجودافغان  باشندوں کو پناہ دینا یا انہیں گیسٹ ہاؤسز میں قیام کی اجازت دینا قانوناً جرم قرار دیا گیا۔ عوام کو اس عمل میں شراکت دار بنایا جائے گا اور کسی کو بھی حکومتی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان  باشندوں کو پناہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے حالیہ افغان حملوں اور خوارج کی دراندازی کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افواج نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیا۔ وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت اور افغان حملوں کے دوران وطن کا دفاع بہترین انداز میں کیا۔

آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور خیبر پختونخوا کے نمائندے نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور وزیراعظم شہباز شریف و چیف آف آرمی اسٹاف کے کردار کی تعریف کی۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے صوبوں سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل میں مکمل تعاون کی اپیل کی۔