67 ملین سال پرانے ٹی ریکس ’گس‘ نیلامی، قیمت 3 کروڑ ڈالر سے زائد ممکن

Calender Icon اتوار 12 جولائی 2026

نیویارک، دنیا کے سب سے خوفناک شکاری ڈائنوسار ٹائرانوسارس ریکس (T. rex) کے نایاب اور تقریباً مکمل ڈھانچے “گس” (Gus) کو سوتھبیز کی سالانہ نیلامی میں پیش کیا جا رہا ہے، جہاں اس کی قیمت 3 کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اگر یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو “گس” دنیا کے مہنگے ترین ڈائنوسار فوسلز میں شامل ہو جائے گا، اس سے قبل 1997 میں “سو” (Sue) نامی ٹی ریکس کو 80 لاکھ ڈالر میں شکاگو کے فیلڈ میوزیم نے خریدا تھا، جو اس وقت ایک ریکارڈ نیلامی تھی۔

بیڈ لینڈز کا وہ مقام جہاں سے ٹی ریکس دریافت ہوا (فوٹو، بی بی سی)
سوتھبیز کی گلوبل ہیڈ آف نیچرل ہسٹری کیسنڈرا ہیٹن کے مطابق ڈائنوسار فوسلز کی تلاش انتہائی مشکل اور خطرناک کام ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہرین مہینوں تک جنگلی علاقوں میں خیموں میں رہتے ہیں، جہاں انہیں سانپوں، جنگلی جانوروں اور سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض اوقات کھدائی کے دوران جانوں کا نقصان بھی ہو جاتا ہے۔

“گس” کو امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے مشہور بیڈ لینڈز علاقے سے دریافت کیا گیا، جہاں یہ تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سال تک زمین میں دفن رہا۔ اس کا نام اس زمین کے مرحوم مالک، مویشی پالنے والے گیری “گس” لِکنگ کے نام پر رکھا گیا۔

فضا میں طیارے کی کھڑکی اکھڑ گئی،مسافر آدھا جہاز سے باہر لٹک گیا، پھر کیا ہوا؟

ماہرین کے مطابق فوسل کو زمین سے نکالنا نسبتاً آسان مرحلہ ہوتا ہے، اصل چیلنج اسے محفوظ رکھنا اور دوبارہ جوڑنا ہے، آزاد ماہرِآثارِ قدیمہ ڈاکٹر فیان اسمتھ وِک کے مطابق زمین سے نکلتے ہی فوسلز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں، اس لیے ان کی بحالی انتہائی احتیاط سے کی جاتی ہے۔

کھدائی کرنے والی ٹیم نے تین برس تک محدود موسمی حالات میں مرحلہ وار فوسل نکالا، جبکہ اس کے بعد مزید تین سال اس کی صفائی، دستاویز سازی اور بحالی پر صرف کیے گئے۔

مزید پڑھیں:مودی کا غیر اسکرپٹڈ سوالات سے گریز کیوں؟ عالمی میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی

دوسری جانب اس نیلامی نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اس قدر اہم سائنسی ورثہ عجائب گھروں اور محققین تک محدود رہنا چاہیے یا پھر نجی خریداروں کو بھی ایسے نایاب فوسلز خریدنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔