مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

چین کے صدر شی جن پنگ(xi jinping) نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے۔
دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک جانب عظیم مواقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب گورننس کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل آئی آئی گورننس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

مزید پڑھیں:آپریشن ’’الفارس الشہم 3‘‘: اماراتی طیارہ مزید 100 ٹن امدادی سامان لے کر غزہ پہنچ گیا

چینی صدر نے کہا کہ انسانیت کو اس دور کے اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کے ذریعے فیصلوں کے دوران سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز سے جنم لینے والے اخلاقی چیلنجز سے موثر حکمرانی کے ذریعے کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کے باوجود مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک کیسے پہنچائے جا سکتے ہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مشترکہ طور پر ان کے مو ثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔