بدخشان میں پہلی بار طالبان مخالف جنگجوؤں کا ضلعی ہیڈکوارٹر پر علامتی قبضہ، اپنا پرچم بھی لہرا دیا

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

افغانستان(Afghanistan) کے صوبہ بدخشان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً 5 سال بعد پہلی مرتبہ طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا۔ حملہ آوروں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انٹیلیجنس دفاتر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کو غیر مسلح کیا، اسلحہ اور سرکاری گاڑیاں اپنے قبضے میں لیں اور چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکل گئے۔

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے چند گھنٹوں کے لیے کنٹرول حاصل کر لیا، جسے طالبان کی اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح 20 سے 25 مسلح افراد نے ضلع کے انتظامی کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا۔ مختصر جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے ضلعی انتظامیہ کی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا اور کمپاؤنڈ پر اپنا پرچم بھی لہرا دیا۔


ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا، اسلحہ، گولہ بارود، فوجی سازوسامان اور سرکاری گاڑیاں اپنے قبضے میں لیں، جس کے بعد وہ چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکل گئے۔ بعض مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور اپنے ساتھ طالبان کے چند اہلکاروں کو بھی لے گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

حملے کی ذمہ داری خود کو ’پیٹریاٹک سولجرز فرنٹ‘ کہنے والے ایک گروپ نے قبول کی ہے۔

مزیدپڑھیں:تمام فیفا ورلڈ کپ دیکھنے والی بزرگ مداح کو میسی کی جرسی کا تحفہ

واقعے کے بعد طالبان نے صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے اضافی نفری یفتلِ سفلی روانہ کر دی، جبکہ ضلع کے اوپر طالبان کے ہیلی کاپٹر گشت کرتے رہے اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

یفتلِ سفلی، فیض آباد کے قریب واقع بدخشان کا ایک اہم اور تزویراتی ضلع سمجھا جاتا ہے، جس کے باشندے ماضی میں بھی صوبے کی سیاسی اور مقامی طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔


رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں بدخشان افغانستان کے نسبتاً غیر مستحکم صوبوں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں طالبان مخالف مسلح سرگرمیوں کے علاوہ مقامی طالبان کمانڈروں اور دیگر صوبوں سے آنے والی فورسز کے درمیان اختلافات، سونے اور قیمتی پتھروں کی کانوں پر کنٹرول، پوست کی کاشت اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدخشان سے باہر کے طالبان اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صوبے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔