دبئی پلٹ مسافروں سے کروڑوں مالیتی ہیرے، پلاٹینم و قیمتی موبائل فونز برآمد

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

کراچی،خاتون سمیت 2 اسمگلر گرفتار، برآمد شدہ کروڑوں روپے کا سامان سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے، دبئی کی پروازوں کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، دونوں ملزمان سے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر کسٹمز حکام نے اسمگلنگ کے خلاف مہم کے دوران دو مختلف اور بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان ضبط کر لیا، دبئی سے آنے والے مسافروں کے قبضے سے 229 قیراط کے قیمتی ہیرے، پلاٹینم بارز اور مہنگے الیکٹرانکس آئٹمز برآمد کر کے ایک خاتون سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات عملے نے انٹیلی جنس معلومات اور سخت نگرانی کے نتیجے میں اسمگلنگ کی بڑی کوششیں ناکام بنائیں، دونوں کارروائیوں کے دوران برآمد کیے گئے اسمگل شدہ سامان کی مجموعی مالیت 1 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کسٹمز عملے نے دبئی سے کراچی پہنچنے والے ایک مشکوک مسافر کو گرین چینل پر روک کر اس کے سامان کی تفصیلی تلاشی لی، تلاشی کے دوران مسافر کے قبضے سے 10 انتہائی قیمتی پلاٹینم بارز، مہنگے اور قیمتی موبائل فونز اور دیگر قیمتی الیکٹرانکس کا سامان سامان برآمد ہونے کے بعد کسٹمز حکام نے تمام اسمگل شدہ اشیاء کو قبضے میں لے کر مسافر کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔

معلوم ہوا ہے کہ دوسری کارروائی کے دوران کسٹمز حکام نے دبئی سے نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچنے والی ایک خاتون مسافر کو چیکنگ کے لیے روکا، کسٹمز چیکنگ کے دوران خاتون کے پاس سے 229 قیراط کے انتہائی قیمتی ہیرے برآمد ہوئے، جنہیں کسٹمز عملے کی نظروں سے بچانے کے لیے انتہائی مہارت کے ساتھ چھپا رکھا تھا، کسٹمز اہلکاروں نے ہیرے ضبط کرکے خاتون کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

مزید پڑھیں:پاکستان کو 1سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض ملے، سعودیہ بڑا معاون رہا

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ دونوں گرفتار مسافروں کے خلاف کسٹمز ایکٹ کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور برآمد شدہ کروڑوں روپے کا سامان سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے، دبئی سے آنے والی پروازوں کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور دونوں ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ اس بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک میں شامل دیگر مقامی اور غیر ملکی عناصر کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔