نئی دہلی: بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اسے اپنی احتجاجی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مزید مطالبات بھی پیش کر دیے ہیں۔
وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا، کاکروچز جیت گئے، جمہوریت جیت گئی۔ پارٹی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔
ادھر پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو اپنی آواز بلند کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں تو حکمرانوں کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ آ گیا، لیکن ہماری تحریک یہیں ختم نہیں ہوگی۔ کاکروچ ایک بار آ جائیں تو جاتے نہیں۔ ان کے مطابق احتجاجی تحریک کے مزید مطالبات بھی ہیں جنہیں پورا کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:طلبہ کا احتجاج رنگ لے آیا،بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی
ابھیجیت دیپکے نے مطالبہ کیا کہ امتحانی تنازع کے باعث جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کی تحقیقات کی جائیں اور تمام طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔
دوسری جانب معروف بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی اس پیش رفت کو جمہوریت، صبر اور پرامن جدوجہد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے احتجاج میں شریک نوجوانوں اور شہریوں کو مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتساب اور تعلیمی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یاد رہے کہ امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ تقریباً دو ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کر رہی تھی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
حکومت کی جانب سے امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانیوں کے باوجود احتجاجی طلبہ اور ان کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی مکمل منظوری تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔













ہفتہ 25 جولائی 2026 

