اسرائیل نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کوغزہ میں داخلے کی اجازت دیدی

Calender Icon پیر 27 جولائی 2026

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کے روز اس قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بین الاقوامی فورس کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

عہدیدار کے مطابق اس مشن کو ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے جو ’یوگنڈا اور مراکش جیسے دوست ممالک‘ سے آئیں گے۔

یہ اہلکار ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں جبکہ ہر دستے کے داخلے کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فورس کب تعینات کی جائے گی۔

گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ذریعے سول انتظام، حماس کا ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج 5 فیصد تک بڑی کمی کا امکان

تاہم یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ نامی ٹیکنوکریٹ گروپ اب تک غزہ سے باہر ہے۔اس وقت اسرائیل غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد ساحلی پٹی کے ایک محدود حصے میں حماس کے زیر کنٹرول علاقوں میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔