غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کے روز اس قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بین الاقوامی فورس کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق اس مشن کو ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے جو ’یوگنڈا اور مراکش جیسے دوست ممالک‘ سے آئیں گے۔
یہ اہلکار ان علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں جبکہ ہر دستے کے داخلے کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فورس کب تعینات کی جائے گی۔
گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ذریعے سول انتظام، حماس کا ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی افواج کا انخلا شامل تھا۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج 5 فیصد تک بڑی کمی کا امکان
تاہم یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ نامی ٹیکنوکریٹ گروپ اب تک غزہ سے باہر ہے۔اس وقت اسرائیل غزہ کے تقریباً 64 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد ساحلی پٹی کے ایک محدود حصے میں حماس کے زیر کنٹرول علاقوں میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔













پیر 27 جولائی 2026 

