پی پی اپوزیشن میں بیٹھے گی یا استعفے دے گی؟ فیصلہ کب اور کون کرے گا؟ اہم خبر

Calender Icon جمعرات 6 اگست 2026

ن لیگ اور پی پی میں اختلافات نکتہ عروج پر پہنچ چکے ہیں کیا پیپلز پارٹی(Peoples Party) وفاق میں حکومت کی سپورٹ ختم کر کے اپوزیشن میں بیٹھے گی؟

آزاد کشمیر الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں کے الزامات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اختلافات نکتہ عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو بھی وفاقی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

کیا پیپلز پارٹی واقعی وفاقی حکومت کی سپورٹ ختم کر کے اپوزیشن میں بیٹھنے جا رہی ہے یا پھر پارلیمنٹ سے استعفے دے گی اور اس کا فیصلہ کب ہوگا؟ اس حوالے سے پی پی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن اور شرمیلا فاروقی نے واضح بتا دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ پارٹی کے اندر اکثریت کی رائے ہے کہ پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔

مزیدپڑھیں:امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی پر ٹرمپ اور وزیرِ جنگ میں جھگڑے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کا بیان آگیا

پی پی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو چیئرمین بلاول بھٹو کے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا جواب تو دینا پڑے گا۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی یا نہیں اس کا فیصلہ پارٹيی کے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔
دریں اثنا پی پی رہنما شرمیلا فاروقی نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی پی تحریک کس طرح شروع کرنی ہے، پارلیمان سے کرنی ہے یا اپوزیشن میں بیٹھنا ہے، پی پی مجلس عاملہ کرے گی۔

تاہم یہ طے ہے کہ اس صورتحال میں پی پی کا ن لیگ سے جس طرح ورکنگ ریلیشن شپ تھا، وہ اب نہیں رہے گا۔