خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کی سخت ترین باتیں کرنے اور بڑی بڑی بھڑکیں مارنے کے بعد ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے، جس سے ان کی سیاسی قلابازیوں کا پول کھل گیا ہے۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے پرانے جارحانہ انداز کو بدلتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسئلہ بات چیت سے حل کرنا ہے تو لانگ مارچ کے بعد کے بجائے پہلے ہی کر لیے جائیں، اور رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی 7 دن ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ صاحب اور ان کی جماعت کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اس بار وہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے اور ہر صورت اسلام آباد کو جام کر دیں گے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ان بڑی بڑی بھڑکیں مارنے اور عوام کو سڑکوں کی بندش کے ذریعے شدید اذیت دینے کے باوجود ان کی کال پر اتنے لوگ بھی باہر نہیں نکل سکے جتنے بہاولپور ضمنی انتخابات کے ایک عام سے امیدوار نے اپنے جلسے میں اکٹھی کر کے دکھا دیے تھے۔ عوام کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے اور سیاسی تنہائی کا شکار ہونے کے بعد اب وزیر اعلیٰ نے عزت بچانے کے لیے مذاکرات کا رستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا یہ نیا یو ٹرن ان کی پے در پے سیاسی ناکامیوں اور بلند و بالا دعوؤں کے کھوکھلے پن کا واضح ثبوت ہے، جنہیں صرف اپنی کرسی اور سیاسی مفادات عزیز ہیں۔













ہفتہ 26 ستمبر 2026 

