عالمی مارکیٹ میں بدھ کو خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجوہات میں سعودی عرب کی جانب سے بحیرۂ احمر تک خام تیل پہنچانے والی اہم پائپ لائن کی بحالی اور امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کے امکانات شامل ہیں۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 7 سینٹ، یعنی 0.07 فیصد کمی کے بعد 98.33 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 35 سینٹ، یعنی 0.39 فیصد کمی کے ساتھ 89.27 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
سعودی عرب نے منگل کو اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر دوبارہ کام شروع کر دیا، ذرائع کے مطابق 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد پائپ لائن بند کردی گئی تھی، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی یَنبُع بندرگاہ سے خام تیل کی برآمدات متاثر ہوئی تھیں۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کر رہا تھا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔
مزیدپڑھیں:موٹروے سمیت اہم قومی شاہراہیں آج شام سے ٹریفک کیلئے مکمل بند رہیں گی
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق عالمی تیل سپلائی کی صورتحال چند ہفتے قبل کے مقابلے میں زیادہ بہتر دکھائی دے رہی ہے، ان کے مطابق نیویارک میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ملاقات نے تاجروں کو مذاکرات کے امکانات کی امید دلائی ہے۔
عراق نے بھی تیل کی برآمدات میں اضافے کا اعلان کیا ہے، عراقی وزیرِ تیل باسِم محمد کے مطابق ملک اس وقت روزانہ 30 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے اور ترکی کے راستے برآمدات کو 6 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تک بڑھانے کی توقع ہے۔
ادھر امریکی تیل کے ذخائر میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، صنعتی اعداد و شمار کے مطابق 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں 18 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جبکہ ماہرین نے ذخائر میں کمی کی توقع کی تھی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے سرکاری ہفتہ وار اعداد و شمار بھی جاری کیے جانے تھے، جنہیں مارکیٹ مزید سمت کے تعین کے لیے دیکھ رہی تھی۔













بدھ 23 ستمبر 2026 

