نوکری چاہیے تو ہوشیار! یو اے ای حکام نے خطرے کی گھنٹی بجادی

Calender Icon اتوار 9 اگست 2026

متحدہ عرب امارات (UAE) کی وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی امور نے شہریوں اور رہائشیوں کو جعلی ملازمتوں کی پیشکش اور بھرتی کے نام پر ہونے والے فراڈ سے خبردار کردیا ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے متحدہ عرب امارات کے اندر اور بیرون ملک موجود ملازمت کے خواہش مند افراد پر زور دیا ہے کہ بھرتی کے عمل میں آگے بڑھنے سے پہلے ملازمت کی پیشکش کی مکمل تصدیق کریں۔

حکام کے مطابق خاص طور پر ایسی پیشکشوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جن میں بہت زیادہ تنخواہ، فوری ملازمت یا غیر معمولی طور پر تیز بھرتی کا وعدہ کیا جائے۔

وزارت نے واضح کیا کہ ملازمت کے حصول کے لیے اگر کسی امیدوار سے فیس ادا کرنے، رقم منتقل کرنے یا ذاتی اور بینکنگ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو ایسی پیشکش مشکوک ہوسکتی ہے۔

اصلی ملازمت کی پیشکش کی تصدیق کیسے کریں؟

وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی امور کے مطابق متحدہ عرب امارات میں آجر کے لیے منظور شدہ جاب آفر فارم استعمال کرنا ضروری ہے، جس پر منفرد سیریل نمبر اور بارکوڈ درج ہوتا ہے۔

ملازمت کے امیدوار ان تفصیلات کی مدد سے وزارت کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا 600590000 پر کال کرکے جاب آفر کی اصلیت کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

حکام نے ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسجنگ ایپس کے ذریعے موصول ہونے والی ملازمت کی پیشکشوں میں بھی خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

جعلی پارٹ ٹائم ملازمتیں

متحدہ عرب امارات کے حکام اس سے قبل بھی ملازمت کے متلاشی افراد کو سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے خبردار کرچکے ہیں۔

دبئی پولیس کے مطابق جعل ساز جعلی پارٹ ٹائم ملازمتوں کی پیشکش کرکے بعض افراد کو بینک اکاؤنٹس کھولنے پر آمادہ کرتے ہیں، جنہیں بعد میں غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:پنڈی بھٹیاں:سندھ سے آنے والے ہندو جوڑے نے اسلام قبول کر لیا

حکام کے مطابق آن لائن تشہیر کی جانے والی جعلی ریموٹ اور پارٹ ٹائم ملازمتوں میں عموماً آسان کام کے بدلے فوری اور زیادہ آمدنی کا لالچ دیا جاتا ہے۔

بعدازاں متاثرہ افراد سے رجسٹریشن یا اکاؤنٹ ایکٹیویشن فیس کے نام پر رقم طلب کی جاتی ہے یا انہیں رقم منتقل کرنے اور ذاتی و بینکنگ معلومات فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

حکام نے ملازمت کے خواہش مند افراد پر زور دیا ہے کہ کسی بھی پیشکش پر اعتماد کرنے سے پہلے اس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں اور رقم یا حساس معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔